ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عراقی نوجوان کی ہلاکت پر برطانیہ نے معافی مانگ لی

عراقی نوجوان کی ہلاکت پر برطانیہ نے معافی مانگ لی

Fri, 16 Sep 2016 16:24:37    S.O. News Service

لندن ، 16؍ستمبر (ایس او نیوز ؍ آئی این ایس انڈیا )عراق کی جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکت سے متعلق تفتیش کرنے والے ایک برطانوی جج کی جانب سے چار برطانوی فوجیوں کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد برطانوی وزارتِ دفاع نے باضابطہ طور پر معافی مانگی ہے۔ان فوجیوں نے مئی 2003میں عراق کے شہر بصرا میں پندرہ سالہ احمد جبار کریم علی کو زبردستی ایک کنال میں دھکیلا اور وہاں اسے زیرِ آب ڈوبنے دیا۔ احمد جبار پر چوری کا الزام تھا اور اسے تیراکی نہیں آتی تھی۔جج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمد جبار کو یہ تو حراست میں لیا جانا چاہیے تھا، نہ ہی اسے کنال میں لے جایا جانا چاہیے تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب احمد جبار ڈوبنے والا تھا اسے بچایا جانا چاہیے تھا۔ہائی کورٹ کے سابق جج سر جارج نیومین کی سربراہی میں قائم عراق فیٹیلٹی انویسٹی گیشنز نامی تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ میں فوجیوں کے رویے کو غیر مناسب اور شعوری طور پر لاپروہ قرار دیا۔رپورٹ میں فوجیوں کی جانب سے احمد جبار کی زندگی نہ بچانے پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسے کنال میں زبردستی دھکیلا گیا اور واصخ دیکھا گیا کہ وہ مشکل میں تھا اور اسے پانی میں ڈوبنے دیا گیا۔اس سے بعید کے اسے حراست میں لینا ہی غیر قانونی تھا، جب وہ ڈوب رہا تھا تو اسے بچایا جا سکتا تھا اور بچایا جانا چاہیے تھا۔رپورٹ میں ان چاروں فوجیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے اور 2006میں انھیں کورٹ مارشل کے مقدمے کے دوران قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے انتہائی شرمندہ ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی افواج کی جانب سے کسی بھی غیر مناسب رویے کی تفتیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ 2003میں شروع ہونے والی عراق کی جنگ میں 200کے لگ بھگ برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 150000کے قریب عراقی شہری ہلاک جبکہ دس لاکھ کے قریب بے گھر ہوئے۔


Share: